Zaffer Bhat visits Rawalpora and kralpora areas under mass contact program

srinager 02 Jan :The Jammu and Kashmir Salvation Movement (JKSM) Chairman Zaffer Akbar Bhat today visited several areas of kralpora and Rawalpora 
under mass contact program. while addressing corner and condolence meetings  He said salvation movement , from day one, has been stating that Kashmir was a political and a human issue which can only be resolved by sustained dialogue with all the stakeholders most importantly including Kashmiris was the way to its resolution.
Zaffer said that if India and Pakistan can share  secret documents what makes them hurdle  to resolve long standing Kashmir dispute,a major 
reason of confrontation between two neighbours. Zaffer suggested that before the anger of people of Kashmir takes an ugly turn, Goi should accept the ground realities and start a process of conflict resolution by giving the people the Right to self-determination or meaningful dialogue.
[02/01, 4:16 pm] Press Umer: ظفر بٹ کی عوامی رابطہ مہم جاری،
سالویشن مومنٹ چیرمین نے کہا اگر ہندو پاک اہم و حساس ترین دستاویزات کا تبادلہ کرسکتے ہیں تو پھر مئسلہ کشمیر حل کرنے میں کیا حرج ہے،
مئسلہ کشمیر حل کرنے کے لئے مذاکراتی عمل واحد راستہ و آپشن ۔
سرینگر 02 جنوری/

سنئیر مزاحمتی قائد،جموں و کشمیر سالویشن مومنٹ چیرمین ظفر اکبر بٹ نے عوامی رابطہ مہم کے تحت راولپورہ اور کرالہ پورہ کے متعدد علاقوں میں عوام سے خطاب کیا،
ظفر نے پارٹی کی عوامی رابطہ مہم کو جاری رکھتے ہوئے آج متعدد علاقوں میں منعقد مٹینگوں اور تعزیتی مجلسوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا اگر حکومت ہندوستان اور پاکستان حساس ترین اور انتہائی اہم دستاویزات کی فہرستوں کا ایک دوسری کے ساتھ تبادلہ کرسکتے ہیں تو پھر کیوں نہیں وہ مئسلہ کشمیر کےمنصفانہ اور قابل قبول حل کے لئے مذاکراتی عمل شروع کرسکھتے ہیں،
انہوں نے کہا چنانچہ ان دونوں ممالک کے درمیان تلخ ،تعلقات و مخاصمت دراصل مئسلہ کشمیر کی وجہ سے ہے، اگر دونوں ملک پرامن ماحول قائم کرنے میں واقعی سنجیدہ ہے تو ان کو مئسلہ کشمیر یہاں کے عوامی جذبات اور امنگوں کے مطابق حل کرنا چاہئے ۔
ظفر نے کہا سالویشن مومنٹ کا قیام سے ہی موقف رہا ہے کہ مئسلہ کشمیر ایک انسانی و سیاسی مئسلہ ہے جس کو یہاں کے لوگوں کے احساسات و امنگوں کے مطابق حل کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے،
انہوں نے کہا اگر ہم بغور طریقہ سے یہاں کی مخدوش و پراشوب سیاسی صورتحال کا جائزہ لیں تو یہ بات منکشف ہو جاتی ہے کہ پچھلے کئی دہائیوں سے یہاں کی عوام نے جو بےلوث قربانیاں پیش کی ہے اور کررہیں ہیں جن قربانیوں کا تقاضا ہے کہ نئی دہلی کی سیاسی قیادت یہاں کی زمینی حقائق کو تسلیم کر کے اس دیرینہ مئسلہ کو مذاکراتی عمل کے ذریعہ حل کریں تاکہ جنوبی ایشائی خطہ میں پرامن ماحول قائم ہو جو جنگوں کی آماجگاہ بن رہا ہے ۔
انہوں نے دونوں ملکوں کی سیاسی قیادت کو مئسلہ کشمیر کے منصفانہ اور حتمی فیصلہ و حل کے خاطر مذاکراتی عمل شروع کرنا کا مشورہ دیتے ہوئے کہا آخر کب تک ہمارے بچیں گولیوں کا نشانہ بنتے رہے گئے