ZAFFAR REMEMBER'S KUNAN POSHPORA MASS RAPE ANNIVERSARY PAID TRIBUTES TO VICTIMS.

22 Feb Srinagar /Jammu and kashmir salvation movement chairman Zaffar akber bhatt paid tributes to the Kunan Poshpora victims, saying they were awaiting justice while the culprits were yet to be booked.“The testimonies of the victims and their families should be an eye-opener for the international community and rights bodies,zaffar said The ongoing political and human rights situation in Jammu Kashmir is a matter of serious concern. Delay in the resolution of Kashmir issue would continue to pose a threat to the permanent peace in the region; an end of violence in the region is not possible.“Also, the nuclear neighbours India and Pakistan continue to have hostile relationship for the past seven decades ,Zaffar said culprits continue to roam scot-free ,Expressing¬ solidarity with the victims, Zaffar said the incident was “unfortunate and horrible part of our history”. He said delaying and denying justice only boosts the morale of criminals and further subjugates the weak and victim . Zaffar also paid tributes to the victims of Kunan Poshpora mass rape and expressed solidarity with the victims and their families on the anniversary of the inhuman incident.



Zaffar demanded impartial enquiry into the horrific and heinous incident,

he appealed world rights bodies and international community to take strong note of mass rapes cases and massacres in Kashmir,

Salvation movement will celebrates 23 February as women's resistance day,

Meanwhile a high level delegation of salvation movement led by Gazi Javid Baba participated in sit in protest demonstration at Abi guzar lal chowk against brutal rape and murder of Minor kathua girl Asifa and demanded Stringent Action Against culprits.

کنن پوشہ پورہ سانحہ کشمیر کی تاریخ کا دردناک و سیاہ باب :ظفر اکبر بٹ،

عالمی اداروں سے مجرمین کو سزا دلانے کی اپیل۔

22 فروری سرینگر /سینئر مزاحمتی قائد، جموں و کشمیر سالویشن مومنٹ چئیرمین ظفر اکبر بٹ نے کنن پوشہ پورہ اجتماعی عصمت دری کی برسی پر متاثرین سے دلی یکجہتی اور ہمدردی کا اظہار کیا ہے،

ظفر اکبر نے کنن پوشہ پورہ کے انسانیت سوز واقعے و سانحہ کو کشمیریوں کی رواں تحریک آزادی کا ایک دردناک باب قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس واقعہ کے متاثرین آج بھی نہ صرف انصاف سے محروم ہیں بلکہ آزادی کے دعویداروں سے اس گھنانے واقعے میں ملوث مجرمین کو قرار واقعی سزا دئے جانے کے متقاضی ہیں۔

ظفر اکبر بٹ کی طرف سے اخبارات کے لئے جاری بیان کے مطابق ظفر اکبر بٹ نے کہا ہے کہ22 اور 23 فروری 1991 کی درمیانی رات کو کنن پوشہ پورہ میں بھارتی افواج نے جس درندگی اور سفاکیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے درجنوں عفت مآب خواتین کی بے حرمتی کی اس کا جواب شائد موجودہ انسانی تاریخ میں نہیں ملتا۔

انہوں نے کہا رات کی تاریکی میں درجنوں حیوانوں سے بتر درندوں نے اج سے ڈھائی دہائیاں قبل جس طرح درجنوں خواتین کی اجتماعی عصمت دری کی گئے اور مردوں کو اجتماعی ٹارچر کا نشانہ بنایا گیا وہ کشمیر کی تاریخ کا ایک سیاہ ترین اور انسانیت کو شرمسار کردینے والا باب ہے۔ظفر اکبر کا کہنا تھا کہ اگر چہ کنن پوشہ پورہ سانحہ پر متاثرین نے کئی دفعہ اس واقعہ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرانے کا پر زور مطالبہ کیا گیا حاتکہ ایک مقامی عدالت میں مقدمہ بھی دائر ہے مگر تعجب و افسوسناک بات ہے کہ متاثرین ابھی بھی انصاف کی متلاشی ہیں،

ظفر نے کشمیری خواتین کے عزم، حوصلے اور قربانیوں کو عقیدت کا سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری خواتین نے رواں جدوجہد کے دوران نہ صرف فولادی قلعہ کی طرح مردوں کے شانہ بہ شانہ ظلم و استبداد کا مقابلہ کیا بلکہ جس ہمت، پامردی اور وسعت قلبی سے پر آشوب و نامسائد حالات کے باوجود تحریک مزاحمت میں اپنا کام بخوبی سرانجام دیا وہ واقعی قابل تعریف، مثالی اور زندہ قوموں کی علامت ہیں۔

ظفر نے کہا کالے قوانین کی آڑ میں جس طرح ہزاروں عصمت داریوں و اجتماعی قتل عام کے واقعات میں ملوث اہلکار آج بھی آزاد گھوم رہے ہیں جو کہ انسانی، اخلاقی اور جمہوری اقدار کے منافی ہے، انہوں نے عالمی برادری اور عالمی اداروں سے مودبانہ اپیل کی ہے کہ وہ خواتین پر جرائم و عصمت دری میں ملوثین کو عوامی عدالت میں کھڑا کرنے کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کر کے ان درندوں کو عبرتناک سزا دلانے کے لئے اقدامات اٹھائے۔

اس دوران متحدہ مزاحمتی قیادت کی طرف سے کٹھوعہ کی معصوم بچی آصفہ کو انصاف دلانے کے حق میں نکالی گئی احتجاجی مظاہرہ میں سالویشن مومنٹ کے ایک اعلٰی سطح وفد زیر قیادت غازی جاوید بابا نے شرکت کی اور اپنا احتجاج درج کیا، انہوں نے معصوم آصفہ کے قتل میں ملوثین کو قراری سزا دلانے کی مانگ کی ہے۔