ZAFFAR PRESIDED EXECUTIVE MEETING OF SALVATION MOVEMENT

Srinagar, May 27: Jammu Kashmir Salvation Movement Chairman, Zafar Akbar Bhat on Sunday said that all principal stake holders of Kashmir dispute should take meaningful and sincere steps to resolve issue as per aspirations of people of disputed state.
People in occupied Jammu Kashmir are not war mongers, however prevailing bloodshed has pushed them to wall. Soon after his prolonged detention, Zafar Akbar convened an executive meeting of his party, held in Srinagar.
Zafar Akbar in chair demanded immediate halt on bloodshed and repeal of all black laws which provides free hand to Indian troops to kill kashmiris, saying it is the moral obligation of India to prepare conducive atmosphere for talks and release all resistance leaders and activists without further delay. Responding to the Indian home minister, Raj Nath Singh’s statement Zafar Akbar said that instead of rhetoric, parroting and looking issue through a particular prism, all parties to the issue should take into consideration the horrible and grim situation in state and should take measures for resolving the issue as per aspirations of people and as per guidelines laid in UN resolutions. Kashmir belongs to kashmiris and both Indo Pak have to free the state Jammu kashmir.
Kashmir is bleeding since past seven decades, Zafar Akbar said and added that the issue has proved a sore for whole continent hence no body on earth can deny the necessity of talks between all its stake holders, however mere rhetoric or slogans can never delver any good, instead sincer and rightful steps are needed to resolve this issue, Zafar added.
Kashmir is the bone of contention between two nuclear countries, Zafar said and added any flare on borders between two countries can lead to destruction and devastation in whole sub-continent.
Zaffar also paid glowing tributes to Shaheed Asiya and Nelofer of shopian and demand to punish the culprits .

پریس ریلیز 
سرینگر مئی 27 : جموں کشمیر سالویشن مومنٹ کے چیرمین اور سینر مزاحمتی قائد ظفر اکبر بٹ نے تنازءکشمیر کے حل پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سلسلے میںسبھی فریقین کو بامعنی اور خلوص پر مبنی اقدامات اٹھانے چاہئے۔ظفر اکبر بٹ جنہیں ایک خاصی مدت قید و بند میں رکھنے کے بعد رہا کیا گیا ،نے پارٹی کے ایگزیکٹیو اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جموں کشمیر کے عوام گزشتہ سات دہائیوں سے خون میں غلطان ریاست کی آزادی کا مطالبہ دہراتے آرہے ہیں اور اس دوران جنگ جوئی کا طریقہ اپنانے کے بجائے پ ±ر امن طریقے سے مطالبہ آزادی کے لئے جستجو کرتے آرہے ہیں۔ بھارتی وزیر داخلہ مسٹر راجناتھ سنگھ کے بیان پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ظفر اکبر نے کہا کہ روان خونریزی نے ریاستی عوام کو پشت بہ دیوار کیا ہے اور بھارتی رہنماوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ مسئلہ کشمیر کے منصفانہ اور عوامی خواہشات کو مد نظر رکھتے ہوئے پہل کرتے ہوئے سبھی فریقین کے ساتھ خلوص پر مبنی مزاکرات کا آغاز کرنے کے لئے عملی اقدامات اٹھائیں اور ضد اور ہٹ دھرمی کا رویہ چھوڑ کر ریاستی عوام کو اپنے سیاسی مستقبل سے متعلق فیصلہ کرنے کا اپنا وعدہ پورا کریں ۔کشمیر کشمیریوں کا ہے اور ھندو و پاک کو کشمیر سے اپنی فوجی نکال کر ریاست جموں وکشمیر کو آزاد چھوڑنے کیلئے اقدامات کرنے چاہئے تاکہ برصغیر میں امن کا بھول بھالا ہو۔
انھوں نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے فضا ساگار بنانے کی اپیل کرتے ہوئے اور قید خانوں میں بند سبھی محبوسین کی فوری رہائی اور کالے قوانین کے ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بات چیت کے لئے سازگار ماحول پیدا کرنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ ریاست میں ہر طرح کے تشدد اور نہتے عوام کے خلاف فوجی کاروائیوں پر روک لگائی جائے۔
انھوں نے بھارتی وزیر داخلہ کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کو مسئلہ کشمیر کو ایک خاص زاویہ نگاہ سے دیکھنے اور اٹوٹ انگ کی راگ پر زور دینے کے بجائے خلوص نیت سے سبھی فریقین کو اس گتھی کو سلجھانے کے لئے اقدامات اٹھانے چاہئے۔ظفر اکبر نے مسلہ کشمیر کے سلسلے میں عوامی جزبات اور اس مسئلہ سے متعلق اقوام متحدہ کی قرادادوں کو اساسی بنیاد قرار دیا اورکہا کہ سبھی فریقین ایک ساتھ بیٹھ کر مسئلہ کے حل کے لئے راہیں تلاش کر نے پر اقدامات اٹھانے چاہیں۔انھوں نے اپنے خطاب میںکہا کہ جموں کشمیر کی ریاست گزشتہ سات دہائیوں سے خون میں ڈوبی ہوئی ہے اور اس مسئلہ کی وجہ سے بر صغیر کے لوگ ایک نہ ختم ہونے والے عذاب و عتاب میں جی رہے ہیں۔انھوں نے مسئلہ کشمیر کو دو ایٹمی ممالک بیچ ایک ناسور قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر اس مسئلہ کے حل کی جانب اقدامات نہیں اٹھائے گئے تو دو ایٹمی ممالک کے بیچ ایک معمولی چنگاری بھی ایک بڑی جنگ میں تبدیل ہوکر برصغیر کے خرمن امن کو تباہ کرسکتی ہے ۔
بٹ نے شہید آسیہ اور نیلوفر کی برسی پر انکو زبردست الفاظ میں خراج عقیدت ادا کیا اور انکے قتل میں ملوث افراد کو سزا دینے کا اپنا مطالبہ دہرایا۔