resolution of Kashmir dispute can guarantee the lasting peace in Sub-continent

Press releaseSrinagar, September 30: Peaceful and harmonious resolution of Kashmir  dispute can guarantee the lasting peace in Sub-continent and it is relevant that APHC leadership and its activists should concentrate and explore ways and means for its just solution ,said Zafar Akbar in meeting of its party executive and workers at his homes in Srinagar.
Referring to scare and harassment created by NIA ,Zafar made it clear that agencies can't deter us from our mission and while urging All party Hurriat conference leadership to formulate new strategies after consulting all responsible kashmiris ,added that we in no case should submit our will or get scared as these tactics are nothing new.
Zafar Akbar while referring to past said that people were harassed on one pretext or the other and despite Ikhwan renegades ,operation Tiger /Catch and Kill and operation ghost etc, pro-freedom people resented and resisted all these follies with determination and steadfastness .
Zafar Akbar urged Hurriat conference leadership to concentrate on freedom movement and said the repressive and coercion can’t dampen our resolve as each soul and family has presented UN paralleled sacrifice to which more than five hundred grave yards testifies our claim.
Zafar Akbar felicitated Adv Mian Ab Qayoom on his overwhelming victory and said that we have great expectations with Bar Association and its leadership and hope that they will continue their endure in finding the lasting solution to vexed Kashmir issue and added that we hope that all office bearers of Bar association will deliver their best for prisoners .Zafar Akbar extended his congratulations to G N shaheen,Mushtaq Ahmed Dar and other office bearers for their victory.
Zaffar while paying tributes to Martyrs of Karbala condemn the foiling of Muharram procession and made restriction to prevent them to participate in Muharam,and Youm e Aashura procession which is clear interference in religion of islam.

پریس ریلیز 
سرینگر ستمبر 30 © : بھارت ،پاکستان اور اقوام متحدہ کے قائدین کو اس بات کا مکمل ادارک ہے کہ مسئلہ کشمیر کو عوامی خواہشات کے مطابق حل کرکے ہی برصغیر میں قیام امن ممکن ہے اور حریت پسند قائدین و کارکنان کو اس سلسلے میں کی جارہی سیاسی جدوجہد کے دوران مشکلات و مصائب کو انگیز کرتے ہوئے اپنی توجہ موجودہ جدوجہد کو حتمی انجام تک پہنچانے کے لئے مرکوز کرنی چاہئے ۔ظفر اکبر بٹ جموں کشمیر سالویشن مومنٹ کے تنظیمی اجلاس میں بلائے جارہے نمائندوں اور اراکین سے خطاب کررہے تھے ۔انھوں نے پارٹی کارکنان سے مخاطب ہوئے کہا کہ حریت پسند قائدین کو NIAکے اشو پر زیادہ توجہ دینے کے بجائے تحریک آزادی کو آگے بڑھانے اور اس کے آبرو مندانہ حل پر توجہ دینی چاہئے ۔انھوں نے صاف الفاظ میں کہا کہNIAاور اس طرح کی دیگر ایجنسیاں اپنے ملکی مفاد کے لئے کام کررہی ہیںالبتہ ہمیں اس سلسلے میں خود پر خوف کی کیففیت طاری کرنے کے بجائے اس بات کو لے کر آگے بڑھنا ہوگا کہ ہم مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے کیا کرسکتے ہیں۔ظفر اکبر بٹ نے ماضی قریب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہمیںاخوان دور سے دبانے کی کوشش کی گئی ،آپریشن ٹائیگر اور آپریشن کیچ اینڈ کیل سے خوفزدہ کرنے کی کوشش کی گئی اور فرضی بھوت کا ہوا کھڑا کرکے مرعوب کیا گیا لیکن ریاستی عوام اس طرح کی چالوںاور سازشوں کو صرف ِ نظر کرکے آگے بڑھے۔ کیونکہ اس تحریک کی بنیادوں میں شہداءکا مقدس خون شامل ہے ۔انھوں نے واضح کیا کہ ایجنسیاں ہمارے عزم کو ختم نہیںکرسکتی ،اس لئے کہ مسئلہ کشمیر کے آبرو مندانہ حل کے سلسلے میں گزشتہ سات دہائیوں کے دوران گھر گھر نے قربانی پیش کی ہے اور گلی گلی میں شہداءکے قبرستان اور جیلوں مین سالہاسالوں سے مقید کشمیری ہمارے عزم و حوصلوں کی داستان سنانے کے لئے کافی ہیں .
اس موقع پر ظفر اکبر بٹ نے بار ایسوی ایشن کے حالیہ انتخابات میں ایڈوکیٹ میاں عبدالقیوم کی کامیابی پر انہیں مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ انہیں ان کی تحریک آزادی کے لئے کی جارہی کوششوں کے لئے پزیرائی حاصل ہے اور امید ظاہر کی بار ایسوی ایشن کے دیگر منخب ذمہ داران محبوسین کوقانونی امداد بہم رکھنے میں مزید سرعت پیدا کریں گے او ر فعال کردار ادا کریں گے۔ظفر اکبر بٹ نے ایدوکیٹ جی این شاہین ،مشتاق احمد ڈاراور دیگر منتخب عہدہ داروں کو ان کے انتخاب پر مبارک پیش کی، 
ظفر اکبر نے شہداءکربلا کو خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے محرم کے جلوسوں پر پابندی اور اعزا داروں پر طاقت کے بے تحاشا استعمال کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ایڈمنسٹریشن کو ہدف تنقید بنایا اوراسے مداخلت فی الدین قرار دیا جو کہ جمہوری اقداروں کے خلاف ہے۔
ترجمان 
جموں کشمیر سالویشن مومنٹ