Muslims of Jammu were massacred

 Press release Srinagar, November 05; Sr Hurriyat leader and chairman JK Salvation Movement on Sunday said that in 1947, Muslims of Jammu were massacred in such a brutal manner that the percentage of Muslims in that region declined from 66 to 38 percent and while blaming fanatical and sectarian forces for prevailing mayhem, he said that these people are carrying bloodshed just to accomplish their sinister designs. 
We are following the mission of these martyrs and pledged to pursue till right to self-determination is acknowledged, added Zafar.
Referring to Kashmir dispute, Zafar Akbar impressed all stakeholders to create conducive atmosphere and added that tripartite talks is the only practicable and achievable solution to long pending dispute.
Zafar Akbar stressed authorities to illustrate sincerity and release all detainees languishing since along. It will send a message that parties to dispute are sincere and added that India needs to show restraint and make an end to human rights violations in state and repeal of black laws.
Meanwhile Zafar Akbar paid his rich tributes to Ab Rashid Parey (Lawey pora) on his 22nd martyrdom anniversary. Zafar while commemorating two young martyrs including Faisel Yousuf and Meraj Ahmad Dar (Nowgam) on their third martyrdom anniversary, said that both these budding youths were mercilessly killed by forces in Chetergam area.
Spokesman 
JK Salvation Movement

پریس ریلیز 
سرینگرنومبر05 : سینئر حریت لیڈر اور جموں کشمیر سالویشن مومنٹ کے چئرمین ظفر اکبر بٹ نے شہدائے جموں کو خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا کہ 1947میں جموں صوبے میں ایک منصوبے اور سازش کے تحت مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا جس کی وجہ سے اس صوبے میںمسلمانوں کا تناسب 66فیصد سے کم ہوکر38فیصد رہ گئی۔انھوں نے ریاست کی موجودہ صورت حال کے لئے فرقہ پرست قوتوں کو مورد الزام ٹھراتے ہوئے کہا کہ وہ ایک گھناونی سازش کے تحت اور اپنے منصوبوں کی تکمیل کے لئے ریاست میں قتل عام جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ظفر اکبر بٹ نے شہدائے جموں کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ہم حصول حق خود ارادیت کے لئے ان کے مشن کی تکمیل تک جدوجہد کو آگے بڑھانے کے وعدہ بند ہیں 
انھوں ریاست کی متنازئ حثییت کے سلسلے میں اپنے بیان میں کہا کہ اس کے مستقبل کے تعین کے لئے سہ فریقی مزاکرات ہی ایک مناسب حل ہے اور فریقین اور بالخصوص بھارت کو سنجیدگی اور خلوص کے مظاہرے ،ریاست اور بیرون ریاست جیلوں میں بند سبھی قیدیوں کو رہا کرنے اور انسانی حقوق کی پامالیوں کو فوری طور بند کرنے ،کالے قوانین کو ختم کرنے اور فوجیون کو بارکوں مین واپس کرنے کی تاکید کی اور اس بات کا اعادہ کیا کہ اس مسئلہ کے کسی بھی فریق کو نظر انداز کرنے سے کسی نتیجہ خیز حل پر پہنچنا ممکن نہیں۔
.دریں اثنا ظفر اکبر بٹ نے شہید عبدالرشید پرے (لاوے پورہ) کو ان کی ۲۲ویں برسی پر خراج عقیدت ادا کیا۔ظفر اکبر بٹ نے نوگام کے دو معصوم شہدائ فیصل یوسف اور محمد معراج ڈار کو ان کی تیسری برسی پر عقیدت کا خراج ادا کرتے ہوے کہا کہ یہ دو معصوم چھتر گام علاقے میں فورسز کی بلا وجہ فائرنگ سے شہید ہوئے اور آج تک اس سلسلے حکام کی جانب سے تحقیقات کاوعدہ کرنے کے باوجود کوئی کاروائی نہیں کی گئی۔
ترجمان 
جموں کشمیر سالویشن مومنٹ