JK Salvation Movement, Voice of Victims, Kashmir Affected Families, Women’s Wing (Salvation Movement) Pellet Victims Association, Youth Wing Leader, Al-Jabar Trust, Al Gani Welfare Trust, Human Rights Forum and People’s Rights Movement

Press releaseSrinagar, May 03: A high level joint delegations including JK Salvation Movement, Voice of Victims, Kashmir Affected Families, Women’s Wing (Salvation Movement) Pellet Victims Association, Youth Wing Leader, Al-Jabar Trust, Al Gani Welfare Trust, Human Rights Forum and People’s Rights Movement on Thursday in an extra-ordinary meet with Tehreek-e-Hurriyat Chairman Mohammad Ashraf Sehrai discussed the prevailing situation in Jammu and Kashmir. The participants including Abdul Qadeer dar , Rouf Ahmed Khan, Mohammad Hanief, Ruqaya Bhaji, Naseema Ji, Reyaz Ahmed, Javed Ahmed, Aijaz Khan and Farooq Ahmad at length discussed the rising number of civilian killings in state and deliberated over the political aspects of resistance movement.

The leaders of the parties reviewed and discussed the prevailing grim situation in state including the increasing human rights abuses and denial of political space for resistance leadership by puppet authorities, the statement said.

India and Pakistan and real representatives of Jammu and Kashmir should start a comprehensive dialogue to seek just lasting solution to Kashmir issue, the leaders observed and discusses the local dynamics of the Kashmir conflict, and focuses on the youth-led resistance against the Indian state in Kashmir.

Forces are using lethal weapons and as a result snatching eye sight of young and budding students. The participants hailed the people for their commitment and wowed to fight oppressive forces unitedly and with wisdom. they added.“It was observed that authorities instead of implementing a realis­tic and rightful approach, state authorities are hatching conspiracies, saying that forces feel trigger happy in killing innocent civilians as they are enjoying impunity under the garb of AFSPA.

It is quite sad and unfortunate that international community hast turned their blind eye to gloomy situations in state, the leaders observed during interaction with Mohd Ashraf Sehrai, statement added.

Kathua girl’s killing is a deliberate act and a well thought out conspiracy against Muslim community of Jam­mu, statement said, saying the meeting observed, saying such inhuman acts are quite in­tolerable and unacceptable for people of state,”.پریس ریلیز

سرینگر مئی 03: : تحریک حریت کے چیرمین جناب محمد اشرف صحرائی اور روان جدوجہد آزادی سے وابستہ مقتدر تنظیموں جن میںجموں کشمیر سالویشن مومنٹ ، وائیس آف وکٹمز،کشمیر ایفکٹیڈ فیملیز،سالویشن مومنٹ ( شعبہ خواتین)پیلٹ وکٹمزایسوایشن ،یوتھ ونگ لیڈر،الجبار ٹرسٹ،الغنی ویلفیر ٹرسٹ، ہیومن رائیٹس فورم خاص طور شامل ہیں،کے زمہ داروں جن میں عبدالقدیر ، روف احمد خان، محمد حنیف ، روقیہ باجی ، نسیمہ باجی، رےاض احمد، جاوید احمد، اعجاز خان اور فاروق احمدنے باہم گفتگو کے دوران ریاست کے موجودہ گھمبیرحالات پر روشنی ڈالتے ہوئے بھڑتے ہوئے شہری ہلاکتوں پر گہری تشویش ظاہر کی اور سیاسی صورت حال کا جائزہ لیا۔نشست کے مابین صحرائی صاحب اور پارٹی مندوبین کے مابین گفتگو میں ریاست کی موجودہ تشویشناک سیاسی صورت حال اور مذاحمتی قائدین کے خلاف پابندیوں اور گرفتاریوں پر گہری تشویش ظاہر کی گئی اور بھارت ،پاکستان اور جموں کشمیر کے مذاحمتی قائدین کے بیچ مزاکرات شروع کئے جانے کی مانگ دہراتے ہوئے کہا کہ ایسا کرنے سے اس خطے کے سبھی ممالک کے لوگ سکھ چین کی سانس لے سکتے ہیں۔مندوبین نے رواں جدوجہد میں نوجوانوں کے رول اور عوام کے خلاف ریاستی طاقت کے استعمال پر بھی بحث کی اور اس بات پر زبردست غم و غصہ کا اظہار کیا کہ بھارتی فوجی بین الاقوامی قونین اور رولنگ کو پس پشت ڈالتے ہوئے مہلک ہتھیا راستعمال کررہے ہیں اور اس طرح نہ صرف لوگوں کی جانیں لے رہے ہیں بلکہ پیلٹ گن کے استعمال سے لوگوں کی بینائی چھین رہے ہیں۔تبادلہ خیال کے دوران اس بات کو محسوس کیا گیا کہ ریاستی عوام کا جزبہ حریت نہ صرف قابل تعریف ہے بلکہ قابل تقلید بھی اور اس بات کو شدت سے محسوس کیا گیا کہ مذاحمتی قیادت کے بیچ اتحاد و اتفاق ایک ناگزیر ضرورت ہے اور اس سلسلے میں وسعت دینے کی ضرورت شدت سے محسوس کی جارہی ہے

. بات چیت کے دوران اس بات پر اتفاق رائے ہوا کہ ہمیں ایک حقیقت پسندانہ اپروچ اختیار کرتے ہوئے اور ایک دوسرے کا ہاتھ تھامتے ہوئے آگے بڑھنا ہوگا۔دوران بات چیت اس بات کو محسوس کیا گیا کہ بھارت نواز تنظیمیں اپنے حقیر مفادات کے حصول کے لئے سازشیں رچارہے ہیں اور دوسری طرف بھارتی افواج کے ہاتھوں قتل عام کے واقعات پرخاموشی کا رویہ اختیار کررکھا ہے۔مندوبین نے دوران مزاکرات کے دوران اس بات کو محسوس کیا کہ بین الاقوامی طاقتیں اور دیگر ممالک ریاست کے حیران کن اور پریشان کن سانحات پر خاموشی اور چشم پوشی کا رویہ اختیار کرکھا ہے۔سیاسی قائدین نے آپسی بات چیت کے دوران یہ نتیجہ اخز کیا کہ کٹھوہ سانحہ کی آڑ میں جموں میں مسلم فرقے کے خلاف سازشیں رچائی جارہی ہیں اور متفقہ طور اس سانحہ پر دلی دکھ کا اظہار کرتے ہوئے اس واقع کی کسی غیر جانب دارانہ ایجنسی سے تحقیقات کرائے جانے کا مطالبہ دہرایا۔مٹنگ کے اختتام پر اس بات کا عہد دہرایا گیا کہ اتحاد و اتفاق کی قوت سے ہی منزل حاصل کی جاسکتی ہے اور اس سلسلے میں آگے بڑھنے کے امکانات پر غور کیا گیا ۔