یومِ مادرخاموشی کیوں؟

10 May 2009 Kasmir Uzma-editorial
کل ساری د±نیا میں یومِ مادر منایا گیا۔ اس حوالہ سے دنیا بھر میں گھر گرہستی ،کنبے اور معاشرے کی نیو رکھنے والی اس ہستی کی حیثیت اور ضرورت کے احساس کو ا±جاگر کرنے کے لئے طرح طرح کی تقاریب کاانعقاد ہوا، لیکن ہماری اس ریاست میں ، جہاں خدا اور مذاہب کو ماننے والوں کی غالب اکثریت ہے ، ایسی کوئی سرگرمی دیکھنے کو نہیں ملی۔د±نیا کے تمام مذاہب میں ماں کو ایک بلند ترین مقام عطا کرکے اسے مکرم ومحترم قرار دیا گیا ہے۔جموں وکشمیر کی آبادی کا غالب حصہ اسلام اور ہندومت کا پیروکارہے اور دونوں مذاہب نے ماں کی عظمت کا برملا اعلان کیاہے۔اسلام نے یہ کہہ کر کہ ”جنت ماں کے قدموں میں ہے“ ماں کے مقام کو احترام کا عروج عطاکیا،جبکہ ہندومذہب میں اس کو قابل عبادت قرار دے کر اسے انسان کے رتبے سے بلند کرکے دیوتا?ں کے زمرے میں پہنچایا گیا۔لیکن اسی ریاست میں ما?ں کی حالتِ زارکیاہے، ا±س سے کوئی بے خبر نہیں ، ما?ں کی زندگیوں کے حالات جاننے کے لئے نہ تو میڈیا کی ضرورت ہے اور نہ ہی انٹرنیٹ کی بلکہ حال ہمارے اپنے گھروں میں ہماری اپنی آنکھوں کے سامنے ہے۔ نئے معاشرے کی بنیادیں جن نئے رجحانات پہ استوار ہورہی ہیں، اس کا ایک واضح نتیجہ یہ ظاہر ہواہے کہ مائیں تیزی کے ساتھ الگ تھلگ پڑ رہی ہیں۔ اپنے بچوں کو اپنی رگوں کا خون پلا پلاکر جوان کرکے ، ان کی تعلیم وتربیت کے لئے اپنا سکھ چین ، دن کا آرام اور رات کی نیندیں قربان کرنے والی اس محترم ومعظم ہستی کو سماج میں نہ صرف معیشی بلکہ ذہنی پریشانیوں اور تکالیف کا پہلے بھی سامنا تھا مگر مشترکہ خاندان کے بکھرا? کے ساتھ اس میں ناقابل بیان حد تک اضافہ ہواہے۔ ہمارے سماج میں آج ایسی ما?ں کی تعداد دسیوں ہزار ہے ، جنہیں اپنی اولاد کی جانب سے بے ر±خی کا سامناہے ، مگر ان میں سے بیشتر ایسی ہیں ، جنہیں اپنی اولاد کی عزت اور آبرو کا اتنا خیال رہتاہے کہ وہ کسی کے سامنے ا±ف تک نہیں کرتیں۔ ایسے معاملات کی تعداد بھی کچھ کم نہیں ،جہاں ماں کو اپنے حقوق کے حصول کے لئے کھل کر سامنے آنا پڑتاہے اور بھر پور رقابتوں اور مصائب کا ایک ایسا نہ تھمنے والا سلسلہ شروع ہوجاتاہے ، جوانہیں بکھیر کررکھ دیتا ہے۔عدالتوں میںسینکڑوں ایسے مقدمات موجودہیں ،جہاں اولاد ہی جنم دینے والی ہستی کے بالمقابل کھڑی ہوکر اس کی سماجی رسوائی کا سامان بنتی ہے۔ کئی معاملات میں تو اولاد ماں پہ ہاتھ اٹھاکر اسے جسمانی طور پر تکلیف پہنچانے کی مرتکب بھی ہوتی رہی ہے۔ نئے معاشرے میں ، جہاں مرد اور عورت دونوں ایک کما? کی حیثیت رکھتے ہیں ، ما?ں کو تنہائی کا زبردست سامناہے۔جس کی وجہ سے اس کے ذہنی عارضوں میں مبتلا ہونے کے خطرات اور خدشات میں کئی گنا اضافہ ہواہے۔ ماہرین نفسیات کے کلینکوں پر ایسے بے شمار کیس درج ہیں ، جہاں اپنی اولاد کی فرمانبرداری کے باوجود درپیش تنہائیوں کی وجہ سے ما?ں کو نفسیاتی عارضوں کی وجہ سے علاج معالجہ کے مراحل سے گذرنا پڑتاہے۔ یہ تمام معاملات اس امر کاتقاضا کرتے ہیں کہ معاشرہ اس حوالے سے سنجیدگی کا مظاہرہ کرکے ایک مثبت طرزِ عمل اختیار کرے۔ سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر اگر چہ خواتین کی فلاح وبہبود کے لئے درجنوں ادارے موجو دہیں ،لیکن دریں حالات میںایسا محسوس ہوتاہے کہ انہیں ان مسائل کی بھنک بھی لگی ہو ، اگر کسی سطح پرایسا ہو بھی لیکن زمینی سطح پر کچھ نظر نہیں آتا۔ حکومت اور سول سوسائٹی کو معاشرے کے اس اہم حصے کے مسائل کی نشاندہی کرنے کے لئے کوئی سائنسی طریقہ کار وضع کرکے سوچ بچار کرکے ان کا حل تلاش کرنا ہوگا۔ سماجی اور مذہبی جماعتیں ، جن کے پاس آج کے دورمیں وسائل کی کمی نہیں ہے ، معاشرے میں ماں کے حقوق اور اس کی فلاح وبہبود کے تئیں بیداری پیدا کرنے کو اپنے ایجنڈا کا حصہ بنانا چاہئے۔تعلیمی نصاب میں بھی والدین خصوصاً والد ہ کے تئیں اولاد کے فرائض کو ا±جاگر کرکے اس حوالے سے اس کا جذبہ بچوں میں راسخ کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر ما ں کا مرتبہ متاثر ہوگا تو لازمی طور ہماری آنے والی نسلوں کی ا±ٹھان متاثرہوگی، جو بنی نوع انسان کے مستقبل کو تاریکیوں کے اندھیرے میں دھکیل سکتاہے۔