ہ مقبوضہ کشمیر کی آزادی کیلئے جہد مسلسل ہم پر فرض ہے اور ہم کشمیر کی آزادی تک چین سے نہیں بیٹھیں گے

 ڈڈیال(اپنے رپورٹر سے)آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی آزادی کیلئے جہد مسلسل ہم پر فرض ہے اور ہم کشمیر کی آزادی تک چین سے نہیں بیٹھیں گے ۔ دنیا کے سامنے اپنی شہیدوں کی لاشیں گنوانے ، عورتوں کی آبروریزی اور نوجوانوں کے اغوا کے قصے سننانے کے بجائے اب ایک ایسی جدوجہد شروع کرنا ہو گی تاکہ تاریخ کا پا نسہ پلٹ دیا جائے ۔ ظلم سہنے کے بجائے ظالموں کو ان کے انجام تک پہنچایا جائے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈڈیال میں جماعت اسلامی کے زیر انتظام کشمیر کانفرنس خطاب کرتے ہوئے کیا جس کی صدارت برطانیہ سے آئے ہوئے تحریک کشمیر برطانیہ کے صدر راجہ فہیم کیانی نے کی ۔کانفرنس سے پبلک اکائونٹس کمیٹی کے چیئرمین و ایم ایل اے عبدالرشید ترابی ، ممتاز حریت پسند کشمیری رہنما الطاف احمد بٹ  ، نائب امیر جماعت اسلامی آزاد کشمیر شیخ عبدالمتین ، شوکت علی کیانی صدر بار ایسوسی ایشن ڈڈیال ، راجہ الطاف خان امیر جماعت اسلامی ضلع میرپور ، راجہ ادریس خان ایڈووکیٹ اور راجہ فہیم کیانی نے خطاب کیا ۔ اس موقع پر صدر آزاد کشمیر نے راجہ فہیم کیانی کی برطانیہ اور یورپ میں کشمیر کاز کو اُجاگر کرنے کیلئے کی جانے والی انتھک کاوشوں پر اُنہیں خراج تحسین پیش کیا ۔
 
صدر آزاد کشمیر نے عبدالرشید ترابی کی کشمیر کیلئے کی جانے والی کوششوں کو بھی سراہا۔ سامعین سے خطاب کرتے ہوئے صدر آزاد جموں و کشمیر نے کہا کہ حالیہ پانچ اگست کے بھارتی اقدامات کے بعد برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک میں کشمیریوں کے حق میں زبردست مظاہرے اور ریلیاں منعقد کی ہیں جن میں پاکستانی تارکین وطن نے اہم روول ادا کیا ہے اور وہاں کے ایم پیز اور قونسلرز کے ساتھ ملکر راجہ فہیم کیانی اور ان کے دیگر ساتھیوں نے جس طرح متحرک کردار ادا کیا ہے جس پر وہ تحسین کے لائق ہیں۔ صدر آزاد کشمیر نے نوجوانوں سے کہا ہے وہ جدید ذرائع ابلاغ کا استعمال کرتے ہوئے کشمیر کاز کو پوری دنیا میں اُجاگر کریں۔ اُنہوں نے کہا کہ آج مقبوضہ کشمیر میں سید علی گیلانی ، آسیہ اندرابی ، یاسین ملک اور دیگر متعدد حریت رہنما قید زنداں میں ہیں اور اس تحریک کیلئے قربانیاں دے رہے ہیں۔ انشاء اللہ قائدین حریت کی یہ قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی ۔ صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ اگر آپ شمالی امریکہ سے لیکر ایشین سپیسیفک تک اور کراچی سے خنجراب تک لوگوں سے کشمیر کی آزادی کا حل پوچیں گے تو وہ سب با یک زبان ہو کر یہ بات کہیں گے کہ صرف سیاسی و سفارتی سطح پر جدوجہد کرنے سے کشمیر آزاد نہیں ہو گا بلکہ اس کے لیے جہاد نا گزیر ہے ۔ اب اس جہاد کی کیا نوعیت اور حیت ہو گی اس کا فیصلہ اپ نے سوچ و بچار کے ساتھ کرنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری 1832 سے اپنی جان اور عزتیوں کی قربانیاں دیتے آئے ہیں اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ان قربانیوں کو آزادی کی صورت میں بدل دیں ۔ صدر نے اپنے حالیہ دورہ ملائیشیا کا دورہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اُن کی ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد ، اور وہاں کے نائب وزیراعظم اوردیگر اہم عہدیداروں سے ملاقات ہوئی ہے جس پر مہاتیر محمد نے کہا کہ آپ میرا یہ پیغام کشمیریو ں کو دیجئے کہ تم حق پر ہو اور آپ ضرورآزادی حاصل کریں گے ۔ اُنہوں نے کہا کہ آپ اپنے اختلافات کو ختم کر کے اتحاد و یکجہتی پیدا کریں اپنے دشمنوں کی تعدا د گھٹائیں اور دوستوں میں اضافہ کریں اپنی معیشت مضبوط کریں اور غصے میں کوئی فیصلہ نہ کریں ۔ صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ مہاتیر محمد کا یہ پیغام انتہائی دانشمندنہ اور قیمتی تھا ۔ اُنہوں نے سامعین سے خطاب کرتے ہوئے مذید کہا کہ آپ یہ نہ سمجھیں کہ ہندوستان نے ابھی حملہ نہیں کیا بلکہ یہ سمجھیں کہ ہندوستان آپ پر حملہ آور ہو چکا ہے ۔ کیونکہ مقبوضہ کشمیر آپ کا جزوی لائنیفک ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ ہندوستان کی تمام سیاسی جماعتیں گزشتہ ستر سالوں کے زائد عرصہ سے کشمیریوں پر ظلم و ستم میں برابر کے شریک ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ بی جے پی کی موجودہ حکومت اور آر ایس ایس مل کر ہندوستان سے مسلمانوں کا مکمل صفایا کرنا چاہتے ہیں اور وہ ہندوستان میں ایک بہت بڑا انسانوں کا قتل عام کرنے جا رہے ہیںوہ آپ کے گھروں پر حملہ آور ہوں گے اور آپ کی عزتوں کو لوٹیں گے اور آپ کی نسل کشی کریں گے ۔ سردار مسعود خان نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم نریندری مودی اور وہاں کا وزیر داخلہ راج نا تھ سنگھ کئی بار یہ اعلان کر چکے ہیںکہ وہ آزا د کشمیر پر حملہ کریں گے اور نریندر مودی نے یہ بھی کہا کہ ہم دس دنوں میں پاکستان کو ختم کر دیں گے ۔ اُنہوں نے کہا کہ نریندری مودی نے پاکستان کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرنے کی بھی دھمکی دی ہے ۔ اس پر میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جوہری ہتھیار ، جوہری ہتھیار ہوتے ہیںاس کی لپیٹ میں کوئی ایک ملک نہیں بلکہ پورا خطہ متاثر ہو گا اور ایسی بات کوئی مفلوک  ا عقل آدمی ہی کر سکتا ہے ۔ صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ پانچ اگست اور اس کے بعد کیے جانے والے ہندوستانی اقدامات پر دنیا کی بہت ساری پارلیمانوں اور بین الاقوامی میڈیا نے مسترد کیا اور کشمیریوں کی آواز کو بلند کیا ہے  یہ امر حوصلہ افزا ہے ۔ لہٰذا ہمیں مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے انہوں نے حضرت محمدۖ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جب اُنہوں نے دین کی تبلیغ شروع کی تو وہ اکیلے تھے لیکن بعد میں اُن کا کارواں بڑھتاگیا اور آج دنیا میں دو ارب مسلمان موجود ہیں۔ صدر آزاد کشمیر نے سامعین کو کہا کہ آپ کسی بھی مکتبہ فکر سے تعلق رکھتے ہوں آپ طالب علم ہوں یا پروفیسر ،کیل ہوں ، ڈاکٹر ہوں یا کاروباری حضرات آپ سب اپنی اپنی حیثیت اور بساط کے مطابق کشمیر کی جدوجہد آزادی میں شامل ہو جائیں ۔ صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ وہ آج ڈڈیال میں آکر آپ سے مخاطب ہو کر بے حد خوشی محسوس کر رہے ہیں۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ممبر قانون ساز اسمبلی اور چیئرمین پبلک اکائونٹس کمیٹی عبدالرشید ترابی نے کہا کہ مملکت پاکستان اور اس کی عوام کشمیر کے ساتھ ایک غیر متزلزل کمٹمنٹ ہے اور یہ ہمارا بڑا اثاثہ ہے ۔  انہوں نے صدر آزاد کشمیر کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ صدر ریاست سردارمسعود خان دنیا کے کونے کونے میں جا کر جس موثر انداز میں سیاسی و سفارتی محاذوں پر کشمیر کا مقدمہ لڑ رہے ہیں اُس کی کوئی نظیر نہیں ملتی اور وہ خراج تحسین کے مستحق ہیں۔ اس موقع پرممتاز حریت پسند کشمیری رہنما اورجموں کشمیر کے سالوویشن موومنٹ کے صدر الطاف احمد بٹ نے کہا ہے کہ 70سالوں سے سرد خانے میں پڑا ہوا مسئلہ کشمیر آج برطانیہ ،یورپ، امریکہ اور کینیڈ ا میں موجود پاکستانی تارکین وطن اور کشمیریوں کی انتھک کوششوں کے باعث دنیا بھر میں ایک بار پھر ایک فلیش پوائنٹ بن کر ابھرا ہے جسکی آوازآج برطانوی پارلیمنٹ، یورپی پارلیمنٹ اور امریکی ایوان اقتدار میں سنائی دے رہی ہے۔ الطاف احمد بٹ نے کہا ہے کشمیریوں کا جینا مرنا پاکستان کے ساتھ ہے۔انہوں نے آزادی اور الحاق پاکستان کی خاطر قربانیاں دینے کی انتہا کر دی ہے۔ آج کشمیری مائیں، بیٹے ،بیٹیاں اور نوجوان الحاق پاکستان کیلئے اپنے تن من دھن کی قربانیاں دے رہے ہیں ۔بھارت میں ہندوتوا سوچ کے باعث آج کشمیر میں کروڑوں افراد بھارتی لاک ڈائون سے بھوک و افلاس کا شکار ہے اس کے باوجود اپنی تحریک اور نظریے سے پیچھے نہیں ہٹے،میرا پاکستان کے حکمرانوںسے سوال ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر پر فیصلہ کن اقدام کیوں نہیں کرتے؟ کشمیری قربانیاں دیتے دیتے نہیں تھکے لیکن ہمیں لگتا ہے کہ ہمارا وکیل تھک رہا ہے پاکستان یاد رکھے کہ کشمیر کے بغیر وہ ادھورا ہے،اور اس وقت کشمیر کا بچہ بچہ پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے اس وقت سے ہمیں ڈرنا چاہئے کہ جب بھارت خداناخوا ستہ اس چال میں کامیاب ہو جاتا ہے کہ کشمیری پاکستان سے مایوس ہو جائیں ۔یہ بڑا تباہ کن اور ہولناک دن ہوگا، اس دن کے آنے سے پہلے پہلے کشمیریوں کی قربانیوں کو آن کرتے ہوئے حکومت پاکستان کوئی سنجیدہ اقدامات اٹھائے الطاف احمد بٹ نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کی معاشی حالت اس وقت کمزور ہے لیکن میرا سوال یہ ہے کہ ایک مسلمان ایک اسلامی ملک معاشی قوت کی بنا پر کسی سے جنگ لڑتا ہے یا ایمان کی بنیاد پر ؟ہمیں دشمن کی عددی قوت سے ہرگز خوفزدہ نہیں ہونا چاہئے ،ہمیں کشمیر کو چھین لینے کیلئے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔الطاف احمد بٹ نے مزید کہا کہ صدر آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر، راجہ فہیم کیانی سمیت تمام کشمیری رہنما اپنے طور پرفکر مند ہیں کہ کشمیر کی آزادی کیلئے وہ کام نہیں ہو رہا جو ہونا چاہئے تھا ۔ اس موقع پر کانفرنس کے صدر اور تحریک کشمیر برطانیہ کے صدر راجہ فہیم کیانی نے کہا کہ ہم برطانیہ اور یورپ میں کشمیر کا مقدمہ لڑ رہے ہیں وہاں پر زبردست مظاہرے اور ریلیاں منعقد ہو رہی ہیں لیکن یہ ذمہ داری صرف ہماری ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں کشمیر اور پاکستانی جہاں جہاں رہتے ہیں اُن سب کی ہے ۔ آزاد کشمیر میں آپ ضلع ، تحصیل اور محلے کی سطح پر بھی کشمیر کی تحریک کو اُجاگر کریں ۔ کانفرنس میں کچھ قرادیں بھی پیش کی گئی جنہیں متفقہ طور پر منظور کیا گیا ۔
Dadyal 23, Feb: ( ) President State Jammu and Kashmir Sardar Masood Ahmed Khan has said that the struggles for the liberation of occupied Kashmir is on us constantly and we will not sit idly until the independence of Kashmir. Instead of telling stories about our martyrs to the world, the story of women's molestation, and the abduction of young people, we must start a struggle with momentum to make history for rest of the world.
He expressed these views while addressing a Kashmir Conference organized by Jamaat-e-Islami in Dadyal presided by Raja Fahim Kayani, President Tehreek e Kashmir UK.

The conference was addressed by Public Accounts Committee Chairman and MLA Abdul Rashid Turabi, prominent Kashmiri Hurriyat leader Altaf Ahmad Bhat, Deputy Amir Jamaat-e-Islami Azad Kashmir Sheikh Abdul-Mateen, Shaukat Ali Kiani President Bar Association Dadyal, Raja Altaf Khan Amir Jamaat-e-Islami District Mirpur, Raja Idrees Khan Advocate and Raja Fahim Kayani.
On this occasion, President Azad Kashmir paid tribute to Raja Fahim Kayani's relentless efforts to unveil Kashmir cause in Britain and Europe.
President Azad Kashmir also praised Abdul Rashid Torabi's efforts for Kashmir
Addressing the audience, President Azad Jammu and Kashmir said that since the recent Indian initiatives on August 5, there have been strong demonstrations and rallies in favour of Kashmiris in the UK and other European countries, in which Pakistani and Kashmiri diaspora has played a vital role. And along with the MPs and councillors there, Raja Fahim Kayani and his other colleagues have played a dynamic role in which they deserve praise.
President Azad Kashmir has asked the youth to unveil Kashmir cause all over the world using modern media. He said that in occupied Kashmir, Syed Ali Gilani, Asiya Andrabi, Yasin Malik and several other Hurriyat leaders are in captivity and are sacrificing for the movement. Insha'Allah the efforts and sacrifices of Hurriyat leaders will never go in vain.


President Azad Kashmir said that if you ask people from North America to the Asia-Pacific and from Karachi to Khunjerab the solution to Kashmir's independence, they will all speak in a language that only struggles at the political and diplomatic level will never free Kashmir from Indian dark clouds. Rather, jihad is inescapable now. It is up to you to decide what will be the nature and purpose of this jihad.
He said that Kashmiris have been sacrificing their lives and honour since 1832. Now it is time for us to turn these sacrifices into freedom.
Referring to his recent visit to Malaysia, the President said that he had met Malaysian Prime Minister Mahathir Mohammed, and his deputy prime minister and other key officials, to which Mahathir Mohammed said, "Please send this message to Kashmiris that You are on the right and you will certainly get freedom. They said that you should eliminate your differences and unite and reduce your enemies and increase your friends, strengthen your economy and make no decisions in anger.
President Azad Kashmir said that this message of Mahathir Muhammad was very wise and valuable. Addressing the audience, he further said that you should not think that India has not yet attacked, but that India has attacked you.
Because occupied Kashmir is your partial line-up. He said that all the political parties of India have been equal partners in the persecution of Kashmiris for more than seventy years.
He said that the present government of the BJP and the RSS, together want to wipe out the Muslims completely and they are going to massacre a large number of people in India. They will invade your houses and will rob you of your dignity and your genocide.
Sardar Masood Khan said that Indian Prime Minister Narendra Modi and his Home Minister Rajnath Singh had announced several times that they would attack Azad Kashmir and Narendra Modi also said that we should finish Pakistan in ten days. He said that Narendra Modi has also threatened to use nuclear weapons against Pakistan.
On this, I want to say that nuclear weapons, will not affect any single country but the entire region, and only a retard man could say such a thing.
President Azad Kashmir said that it was encouraging that many interntional parliamentarians and international media rejected and raised the voice of Kashmiris on the Indian steps taken on August 5 and thereafter. So we do not need to be disappointed, he cited the example of Prophet Muhammad, saying that when he started preaching religion he was alone but later his caravan increased and today there are two billion Muslims in the world.

He urged the audience that no matter what school of thought you are following, whether you are a student or a professor, a nurse, a doctor or a businessman, all of you, in your own situation and status, join the struggle for freedom in Kashmir. President Azad Kashmir said he was feeling very happy to come to Dadyal today.
Speaking on the occasion, Member Legislative Assembly and Chairman Public Accounts Committee Abdul Rashid Tarabi said that the state is an irreplaceable commodity with Pakistan and its people Kashmir and it is our major asset. He praised President Azad Kashmir and said that the President of the state Sardar Masood Khan, who is going to every corner of the world and effectively fighting for Kashmir cause on political and diplomatic fronts, and deserves a tribute.
During his address, Altaf Ahmad Bhat, prominent Kashmiri leader and president of Jammu Kashmir Salvation Movement, has said that the problem that has been left in the cold for 70 years is that today due to the tireless efforts of Pakistani and Kashmiris in the UK, Europe, the United States and Canada Kashmir has again emerged as flashpoint in the world.

Bhat further said that, The voice of the Kashmiris is now heard at the British Parliament, the European Parliament and the US House. Kashmiris have sacrificed their lives for the sake of freedom and affiliation with Pakistan.
Today Kashmiri mothers, sons, daughters and young are sacrificing their lives for affiliation with Pakistan. Hundreds of people in Kashmir today suffer from hunger due to ongoing lockdown by the Indian government under Hindutva philosophy. But still, Kashmiris didn't back off from the Freedom movement.
My question to the rulers of Pakistan is why they do not take decisive action on the Kashmir issue. Kashmiris are not tired of making sacrifices but we think our advocate is tired.
Pakistan should remember that without Kashmir, it is incomplete, and since then Kashmir's even children are standing with Pakistan, we should fear that when India's ill intentions are succeeded, Kashmiris become disappointed with Pakistan.
It will be a devastating and horrific day. Before the day comes, the government of Pakistan will take any serious steps by respecting the sacrifices of Kashmiris.
Altaf Ahmed Bhat further said that there is no doubt that Pakistan's economic condition is weak at the moment, but my question is if a Muslim country fights a war on the basis of economic power or on the basis of faith? We should never be afraid of the numerical strength of the enemy. We have to take practical steps to take Kashmir away.
Altaf Ahmad Butt added that all Kashmiri leaders, including President Azad Kashmir Raja Farooq Haider, Raja Fahim Kayani, are concerned that the work that should not have been done for the independence of Kashmir.
On the occasion, President of the Conference and President of Tehreek-e-Kashmir UK Raja Fahim Kayani said, "We are fighting the Kashmir cause in the UK and Europe. There are tremendous demonstrations and rallies taking place but this responsibility is not only ours but the Pakistani and Kashmiris living all over the world. In Azad Kashmir, you should highlight the Kashmir movement at district, tehsil and local level. 
In the end, Kashmir Heroes Award were presented to the families of Martyrs namely: Mehboob ul Hassan Shaheed, Nadeem Yaseen Shaheed, Muhammad Tanveer shaheed, Mehboob ur Rehman Shaheed.

Some resolutions were also presented during the conference which was accepted unanimously.