فورسز کے بڑھتے ہوئے مظالم عالمی تنظیموں کے لئے چشم کشا

کشمیر کے طول و عرض میں سرکاری فورسز کے بڑھتے ہوئے مظالم آئے روز نوجوانوں کو قتل کر نے اور عام لوگوں کو ہراساں کرنے کی کاروائیاں اور حریت قائدین کو مسلسل نظر بند رکھ کر ان کی سیاسی سرگرمیوں پر قدغن ،حقوق بشر کی عالمی تنظیموں کے لئے چشم کشا ہے۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کے صدر دفتر کے ناظم اعلیٰ جناب شبیر احمد ڈار، حریت میڈیا ایڈوائیزر جناب سید سلیم گیلانی، حریت کانفرنس کے شعبہ حقوق انسانی کے انچارج جناب محمد یوسف نقاش نے یہاں جاری ایک مشترکہ بیان میں نام نہاد سرکار کی ان معاندانہ پالیسیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ دنوں میں عارف ایوب، منظوراحمد بیگ اور شفاعت احمد کی سرکاری فورسز کے ہاتھوں قتل ،بڈگام میں مذید فوجی کیمپ تعینات کرنے اور سرکردہ حریت قائدین جناب شبیر احمد شاہ ، جناب نعیم احمد خان اور جناب ظفر اکبربٹ کی مسلسل نظر بندی اورمزاحمتی قائدین جناب ڈاکٹر محمد قاسم فکتو، شکیل احمد صوفی ، اور شبیر احمد کو سالہال سال سے جیلوں میں مقید رکھنے جیسے اقدامات نام نہاد سرکار کے ان عزائم کو عیاں کرنے کےلئے کافی ہیں جو وہ یہاں مبنی برحق جدوجہد کو دبانے کےلئے عملارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کو عملاً فوجی اور نیم فوجی دستوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے اور ایک طرف ریاستی سرکار کشمیر میں حالات کی بہتری کا دعویٰ کرنے ہوئے نہیں تھکتی مگر دوسری طرف یہاں کے عوام کو ہر روز کالے قوانین کے سختیوں کی مار برداشت کرنی پڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس قسم کے اقدامات حریت پسند قائدین اور عوام کے حوصولوں کو توڑنے کےلئے عملائے جا رہے ہیں تاہم اس کے نتیجے میں عوامی رد عمل کی ذمہ داری خود سرکار پر عائد ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف ریاستی
 وزیر اعلی مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے مذاکرات کی بحالی کا ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں اور دوسری طرف یہاں کے عوام کی مستند قیادت کی نظر بندی ہماری سمجھ سے بالاتر ہے۔ PN