سوموار کو پورے کشمیر میں پر امن احتجاج کی اپیل

 

کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان نے کل شوپیاں میں دو معصوم لڑکیوں کے ساتھ سرکاری فورسز کی بربریت اور ان کے بہیمانہ قتل پر شدید غم و غصے اور مذمت

کا اظہار کرتے ہوئے کل سوموار کو پورے کشمیر میں پر امن احتجاج کی اپیل کی ہے

۔ ترجمان نے اس دلدوز سانحہ کے خلاف بطور احتجاج اور متاثرہ کنبوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے سرکاری فورسز کے اس سیاہ کارنامے کے خلاف کل شام کو ۹ بجے سے۰۱بجے تک اپنے گھروں میں بلیک آوٹ کرنے کی بھی اپیل کی۔ترجمان نے کہا کہ چونکہ دو معصوم زندگیوں کے چراغ گل کر دئے گئے ہیں اس لئے اہل کشمیر بطور احتجاج ایک گھنٹے لےلئے اپنے گھرو ں کی روشنیاں گل کر کے اپنے ماتم کا اظہار کریں۔ اس دوران کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیرمین جناب میرواعظ مولوی محمد عمر فاروق جن کو گزشتہ شام سے اپنے گھر میں نظر بند کر دیا گیا ہے نے اس واقعے پر دلی صدمے اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری فورسز کو حاصل بے پناہ اختیارات کشمیر میں ایسے گھناونے واقعات کا موجب بنتے ہیں اور ایسے واقعات پر روک لگانے کےلئے کشمیر سے کالے قوانےن کا خاتمہ اور فورسز کا انخلا اب نا گزیر عمل بن گیا ہے۔ جناب میرواعظ نے اس گھناونے واقعہ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کر نے کا مطالبہ کر تے ہوئے کہا کہ تحقیقاتی کمیٹی میں علاقے کے معزز شہریوں کو بھی شامل کیا جا نا چاہے تاکہ اصل حقیقت عوام کے سامنے آسکے اور اس جرم میں ملوث درندہ صفت مجرموں کو قرار واقعی سزا دی جا سکے۔ جناب میرواعظ کی ہدایت پر ایک اعلیٰ سطحی وفد جس میں جناب محمد یوسف نقاش، سید بشیر اندرابی، فاروق احمد سوداگر، محترمہ یاسمین راجہ، محمد الطاف ڈار، عشرت احمد اور محمد یوسف گنائی شامل ہیں نے آج شوپیاں جا کر اس واقعے کے خلاف زبردست احتجاج کیا اور متاثرہ کنبوں کے ساتھ حریت چیرمین کی طرف سے یکجہتی اور ہمدردی کا اظہار کیا۔

دریں اثنا حریت ترجمان نے سرکردہ حریت قائدین جناب شبیر احمد شاہ، اور جناب نعیم احمد خان،جو گزشتہ ایک ہفتے سے نظر بند ہیں اور حریت رہنماﺅں جناب ظفر اکبر بٹ، جناب سید سلیم گیلانی ، جاوید احمد میر، حکیم عبدالرشید کو گھروں میں نظر بند کرنے کی مذمت کرتے ہوئے اسے سرکار کی بوکھلاہٹ قرار دیا ہے۔ دریں اثنا حریت کارکنان نے آج حبک ، شالیمار، اور حضرتبل کے متعدد علاقوں میں جا کر لوگوں کو نام نہاد انتخابی عمل سے لا تعلق رہنے کی اپیل کی ۔