حریت نے ظفراکبر بٹ اور نعیم احمدخان کی مسلسل نظر بندی کی بھی مذمت کی

 سرینگر 23مئیجماعتی حریت کانفرنس کے چیرمین جناب میر واعظ مولوی محمد عمر فاروق نے آج حال ہی میں رہا شہدہ سینئر حریت رہنما جناب شبیر احمد شاہ صاحب کے گھر جا کر ان سے ملاقات کی ۔ اس موقعہ پر دونوں قائدین نے موجودہ سیاسی و تحریک صورتحال پر تبادلہ خیا ل کیا ۔ جناب میرواعظ نے شاہ صاحب کی رہائی کو تحریک مزاحمت کےلئے خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ شاہ صاحب کی رہائی سے موجودہ جدوجہد آزادی کو کامیابی کی راہ پرگامزن کرنے میںمدد ملے گی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جیلوں میں مقید دیگر مزاحمتی قائدین کو بھی غیر مشروط رہا کیا جائے گا۔ اس موقعہ پر جو دیگر سرکردہ حریت قائدین موجود تھے ان میں جناب خلیل محمد خلیل، جناب جہانگیر غنی بٹ، جناب شبیر احمد ڈار، ایڈوکیٹ شاہد الاسلام ، جاوید احمد میر، محمد یوسف نقاش شامل ہیں ۔ جناب میرواعظ نے بعد میں صورہ میڈیکل انسٹچوٹ جا کر گزشتہ دنوں فورسز کے ہاتھوں ٹیر گیس شلینگ کے نتیجے میں شدیدطور زخمی ہوئے عارف احمد کی عیادت کی اور موصوف کے گھروالوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا۔ اس موقعہ پر جناب میرواعظ نے سرکاری فورسز کی زیادتیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایک منصوبہ بند سازش کے تحت ہمارے نوجوانوں کو قتل کیا جا رہا ہے ۔ جناب میرواعظ نے ظلم و تشدد کے اس سلسلے کو فوری طور بند کر نے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس قسم کے واقعات اب نا قابل برداشت ہوتے جا رہے ہیں اور اگر اس پر فوری طور روک نہ لگائی تو اس کے خلاف بطور احتجاج عوام سڑکوں پر آئےں گے۔ جناب میرواعظ کے ہمراہ ، ایڈوکیٹ شاہد الاسلام ، جاوید احمد میر، محمد یوسف نقاش بھی تھے۔
دریں اثنا حریت ترجمان کے مطابق جن سرکردہ حریت قائدین نے آج جناب شبیر احمد شاہ کے گھر جا کر ان سے ملاقات کی ان میں جناب آغاسید حسن الموسوی الصفوی، جناب مولانا مسرور عباس انصاری ،جناب مختار احمد وازاہ شامل ہیں۔ ترجمان نے جناب شبیر احمد شاہ کو رہائی کے فوراً بعد گھر میں نظر بند کر کے ان کی تحریک اور سیاسی سرگرمیوں پر قدغن لگانے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف نام نہاد سرکار جمہوریت اور اظہار رائے کے بلند بانگ دعوے کر تی ہے اور دوسری طرف یہاں کے عوام کی ترجمان قیادت کو جیلوں میں گھروں میں محصور کیا جاتا ہے۔ ترجمان نے سرکردہ حریت قائدین جناب نعیم احمدخان اور جناب ظفراکبر بٹ کی مسلسل نظر بندی کی بھی مذمت کی۔