جیلوں میں نظر بند کالے قانون کے تحت گرفتار افراد کی فوری رہائی کا مطالبہ
جولائی کو لال چوک مارچ کامیاب بنادیں
سرینگر 3جولائی ۔۔ حریت کانفرنس کے چےئرمین میرواعظ عمر فاروق نے کہ شمیری عوام 13جولائی کو یوم شہداءکشمیر کے موقع پر لال چوک چلو مارچ کو کامیاب بنائیں ۔ انہوںنے کہا کہ سرکاری دہشت گردی اور بنیادی انسانی حقوق کی پامالیوں میں روز بہ روز تشویشناک حد تک اضافہ ہوتا جارہا ہے جس کے سبب عوام میں رنج و غم ، غیض و غضب اور عدم تحفظ کا احساس دن بہ دن بڑھتا جارہا ہے جس کی تازہ ترین مثال شوپیاں، بارہمولہ اور لارکی پورہ ڈورو کے افسوسناک اور شرمناک واقعات ہےں۔یا تو حکومت یہ سب کچھ جان بوجھ کر کررہی ہے یا پھر سرکاری مشنری بے بس اور لاچار ہے ۔ ان تازہ کارروائیوں کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔ان باتوں کا اظہار مسلسل چار جمعہ تک اپنی رہائش گاہ میں نظر بند رہنے کے بعد آج پہلی بار مرکزی جامع مسجد سرینگر میں حریت چیرمین میرواعظ مولوی محمد عمر فاروق نے ایک بڑے اجتماع میں اپنے خطاب کے دوران کیا۔
انہوں نے بارہمولہ میں بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں چار شہداءکو زبردست الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا اور ریاستی دہشت گردی کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ میرواعظ نے کہا کہ جب تک علاقے سے فوجی انخلاءعمل میں نہیں لایا جاتاحقوق انسانی کی پامالیوں کی روک تھام ناممکن ہے۔ انہوں نےکہاکہ اگراس نے شوپیان میں دو خواتین کی بے حرمتی اور قتل میں ملوث اہلکاروں کو فوری طوربے نقاب کر کے سزا نہ دی تو حریت کانفرنس اس کے خلاف جلد ہی بھرپور احتجاجی مہم کا اعلان کرے گی۔ حریت چیئرمین نے کشمیر اور بھارت کی جیلوں میں نظر بند کالے قانون کے تحت گرفتار افراد کی فوری رہائی کا مطالبہ بھی کیا
دین اسلام میں نماز جمعہ کی اہمیت و فضیلت اور وحدت و اجتماعیت کے عظیم فلسفے پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے میرواعظ نے کہا کہ ایک منظم منصوبے کے تحت جمعہ کے بڑے بڑے اجتماعات کو حکومت کی جانب سے طاقت کے بل پر ناکام بنانے کی روش اپنائی گئی ہے ۔ پہلے گورنر رول کے دوران اور اب موجودہ حکومت میں بھی یہ بدترین سلسلہ جاری رکھا گیا ہے ۔ جمعہ کے مقدس دن میں صبح سویرے ہی گلی ، کوچوں اور نکڑوں میں غیر اعلانیہ کرفیو ، ناکہ بندی ، فورسز اور پولیس کا بھاری جماﺅ کا مقصد مرکزی جامع مسجد سمیت بڑی بڑی مساجد ، خانقاہوں اور امام باڑوں میں مسلمانوں کی حاضری پر قدغن لگانا ہے جس سے نہ صرف مسلمانوں کے دینی جذبات شدید مجروح ہوتے ہیں بلکہ یہ ان کے لئے ناقابل برداشت حرکت ہے ۔
میرواعظ نے اعلان کیا کہ اس سازش کو اجتماعی طور پر ناکام بنانے کیلئے آئندہ اب کسی جمعہ کوہڑتال کی کال نہیں دی جائیگی تاکہ مسلمان اس مقدس دن میں بڑے بڑے دینی و ملی اجتماعات میں شریک ہوکر اللہ کے حضور سربسجود غلبہ اسلام، مسلمانوں کی سربلندی کیلئے اجتماعی دعا ، توبہ و استغفار اور آزادی وطن کیلئے تجدید عہد کرسکیں۔انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں تحریک نواز جماعتوں کو بھی اعتماد میںلیا گیا ہے۔
حریت چیرمین نے کہا کہ تحریک کے اس اہم موڑ پر تمام ذمہ دار حضرات بھر پور اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کرےں تاکہ اتحاد دشمن قوتوں کے عزائم ناکام ہو اور عوام میںکوئی انتشاری کیفیت پیدا نہ ہو۔حریت چیرمین نے تمام تحریک نواز افراد اور جماعتوں پر زور دیا کہ وہ احتجاج اور ہڑتال کے پروگرام دیتے وقت اس امر کو یقینی بنائیں کہ ایک طرف جہاں تحریک کے تقاضے پورے ہوں وہاں عام اور غریب لوگوں کے مسائل و مشکلات بھی مد نظر ہوں اور یہ احساس رہے کہ ہماری حق و صداقت پر مبنی تحریک آزادی کو کامیابی سے ہمکنار کرانے کیلئے کئی مہینے اور کئی سال بھی لگ سکتے ہیں
میرواعظ نے اس موقعہ پر اعلان کیا کہ عوامی مجلس عمل کا45واںیوم تاسیس جو بطور یوم تحفظ ناموس خواتین 20جون کو منانا تھا لیکن حکومت کی پابندیوں کے سبب نہیں منایا جاسکا اب یہ دن 5 جولائی بروز اتوار ”یوم تحفظ ناموس خواتین“ کے طور پر پارٹی ہیڈ کوارٹر میرواعظ منزل پرمنایا جائیگا۔ انشاءاللہ
حریت چیرمین نے 13جولائی یوم شہدائے کشمیر شایان شان طریقے پر منانے کا اعلان کرتے ہوئے 21 مئی 2009ءکو عیدگاہ کے بھاری اجتماع میں دئے گئے پروگرام کو دہرایا۔
دریںا ثنا آج وادی بھر کی مساجد خانقاہوں اور امام باڑوں میںنماز جمعہ کے موقعہ پر بڑے بڑے اجتماعات ہوئے۔ ائمہ اور خطیبوں نے شوپیاں ، بارہمولہ اور لارکی پورہ اسلام آباد کے حالیہ واقعات کیخلاف برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سرکاری ظلم و جبر کی شدید الفاظ میں مذمت کی جبکہ حریت رہنماﺅں جناب مولانا عباس انصاری نے ڈولی پورہ جڈی بل، جناب آغا سید حسن نے چاڈورہ، جناب ظفر اکبر بٹ نے گلشن نگر، حکیم عبدالرشید نے احمداکدل اور ایم ایس رحمن شمس نے نوشہرہ میں خطاب کیااور حریت کے نقطہ نظر کو پیش کرنے کے ساتھ ساتھ رواں ابتر سیاسی صورتحال پرتفصیل سے روشنی ڈالی۔ادھر حریت رہنما مختار احمد وازہ کی قیادت میں جو وفد ڈورو اسلام آباد کے عوام کے ساتھ یکجہتی کیلئے جارہا تھا پولیس نے دیالگام میں وفد کو روک دیا اور آگے جانے کی اجازت نہیں دی۔حریت ترجمان نے اسکی شدید مذمت کی۔
