تکونی مذاکرات کسی بھی طور مسئلے کے حل میں معاون یا مدد گار ثابت نہیں ہو سکتے--- ظفر اکبر بٹ

 کے این ایس کے ساتھ ظفر اکبر بٹ کی اپنی رہائش گاہ پر خصوصی بات چیت :۔
 مسئلہ کشمیر مذاکرات کے ذریعے حل کرنا ہندوستان اور پاکستان کی مجبوری قرار دیتے ہوئے حریت کے سینئر لیڈر اور سالویشن مومنٹ کے چیرمین ظفر اکبر بٹ نے واضح کردیا کہ مار دھاڑ اور گرفتاریاںانہیں تحریک آزادی کی آواز کو آگے لیجانے سے نہیں روک سکتیں۔
انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ اگر مسئلہ کو کشمیری عوام کی امنگوں اور خواہشات کے مطابق حل کیا جاتا تو ”عسکری و سیاسی جدو جہد کا رول ہی ختم ہو جائے گا “۔”تکونی مذاکرات کسی بھی طور مسئلے کے حل میں معاون یا مدد گار ثابت نہیں ہو سکتے “
۔انہوں نے بتایا کہ وادی کی جیلوں میں کافی گنجائش ہونے کے باوجود کشمیری حریت پسندوں اور نوجوانوں کو بھارتی ریاستوں کی جیلوں میں منتقل کیا جاتا ہے،تاکہ ان نظر بندوں کے ساتھ ساتھ انکے لواحقین کو بھی تکالیف میں مبتلارکھا جائے۔ تقریباً ایک سال کی اسیری سے رہائی پانے کے بعد کشمیر نیوز سروس کیساتھ ایک بات چیت کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے سینئر حریت رہنما وسالویشن مومنٹ کے چیئرمین ظفر اکبر بٹ کا کہناتھا کہ حکومت ہند مذاکرات کے بجائے جنگ اور تباہی کاراستہ اختیار کرنا چاہتی ہے جودونوں ملکوں کے ساتھ پورے برصغیرکو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے ۔

 ظفر اکبر بٹ نے کہا کہ مسئلہ کشمیر مذاکرات کے ذریعے حل کرنا دونوں ملکوں کی مجبوری اور ضرورت ہے لیکن بھارت کی وقت ٹپاو¿ پالیسیوں Delaying Tactics کے ذریعے بین الاقوامی برادری کو گمراہ کرنا اور مذاکرات کے نام پر کشمیریوں کو دھو کہ دینا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ حکومت ہند مذاکرات کے بجائے جنگ اور تباہی کاراستہ اختیار کرنا چاہتی ہے جودونوں ملکوں کے ساتھ پورے برصغیرکو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ بہتر ہے کہ دونوں ملک آپس کی تلخیاں ختم کرکے ایک دوسرے کے قریب آئیں اور لوگوں کے درمیان تعلقات استوار کریں پھر پُر امن ماحول میں تینوں فریق بھارت ، پاکستان اور کشمیر ی قیادت اکھٹا مل بیٹھ کر مسئلہ کشمیر کا پائیداراور مستقل حل سنجیدہ مذاکرات کے ذریعے تلاش کریں ۔کشمیری عوام دونوںملکوں کی خوشحالی اور ترقی کے حق میں ہیں لیکن یہ سب کچھ کشمیر کے حل کے ساتھ منسلک ہے

۔ظفر اکبر بٹ کا کہنا تھا کہ عسکری وسیاسی اور سفارتی کوششیں مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کیلئے ہو رہی ہیں۔ انہوںنے واضح الفاظ میں کہا کہ اگر مسئلہ کشمیر کو مذاکرات کے ذریعے عوامی امنگوں کے مطابق حل کیا جاتا تو عسکریت کے ساتھ ساتھ سیاسی جدو جہد کا رول بھی کشمےر میں ختم ہو جائے گا ۔ظفر اکبر بٹ کے بقول حال ہی میں جہاد کونسل میں شامل عسکری تنظیم کے سربراہوں نے 2010 میں عسکری کاروائیاں معطل کر کے پُر امن عوامی جدو جہد کو کھل کر موقع دیا لیکن حکومتی فورسز نے گن گرج سے یہاں کے نوجوانون ،بزرگوں اور بچوںکاقتل عام کیااور سینکڑوں کشمیریوں کو معذور بنادیا اور سینکڑوں کو PSA کے تحت وادی اور بیرون وادی مختلف جیلوں میںقید کیا اورلوگوں اور جہاد کونسل کو اپنا فیصلہ تبدیل کرنے کیلئے پھر سے مجبور کیا۔

کے این ایس کے مطابق سالویشن مومنٹ کے سربراہ ظفر اکبر بٹ نے بتایا کہ حریت کانفرنس کے آئین میں واضح طورپرکہا گیا ہے کہ مسئلہ کشمیر کا حل صرف اور صرف اقوام متحدہ کی قرار دادوں یا پھرسہ فریقی مذاکرات میں مضمر ہے۔ دو طرفہ اور تکونی مذاکرات کا عمل 1947 سے لیکر آج تک کوئی نتیجہ نکالنے سے قاصر ہے۔لہٰذاتکونی یا وقت گزاری مذاکرات کسی بھی طور مسئلے کے حل میں معاون یا مدد گار ثابت نہیں ہو سکتے ۔ انہوں نے کہا کہ حریت کانفرنس کا واضح موقف ہے کہ مسئلہ کشمیر کا حل بامقصد اور نتیجہ خیز مذاکرات میں مضمر ہے۔ سالویشن موومنٹ کے چیئرمین ظفر اکبر بٹ نے کہا کہ جیل سے رہا ہونے کے بعد انہوں نے یہ محسوس کیا کہ مسئلہ کشمیر کو عوامی امنگوں کے مطابق حل کرنے کے حوالے سے کشمیری عوام کی جدو جہد اور لا زوال قربانیاں رنگ لا رہی ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے بین الاقوامی سطح پرکوششیں تیز ہو رہی ہیں اور بھارت اور پاکستان کے سربراہوں پر دباﺅ بڑ رہا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کو جلد از جلد کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کریں ۔ انہوں نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ جموں کشمیر میں بالخصوص 2010 سے اوربالعموم پچھلے 20 سال سے مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے حوالے سے حریت پسند قیادت کے ساتھ بین الاقوامی سطح کے مختلف وفود تبادلہ خیال کرنے کیلئے کشمیر آرہے ہیں یہاں تک ایمنسٹی انٹرنیشنل کا دورہ بھی قابل ذکر ہے ۔ ”ظفر اکبر بٹ کا کہنا تھا کہ شہادتیں اور گرفتاریاں تحریک آزادی کشمیر کا حصہ ہیں اسلئے جیل یا انٹراگیشن سینٹرز ہمیں تحریک آزادی کشمیر کی آواز کو آگے لیجانے سے نہیں روک سکتے “۔انہوں نے کہا کہ جہاں تک جیل حکام کا تعلق ہے کسی بھی جیل میں Jail mannual پر عمل در آمد نہیں ہو رہا ہے ۔وادی سے باہرکی جیلوں میں کشمیریوں کو بھیجناحکومت کی پالیسی ہے تاکہ انہیں مختلف اذیتیںدیکرتحریک آزادی سے دور رکھا جاسکے۔ظفر اکبر بٹ نے کہا کہ اس بات سے سب آگاہ ہیں کہ وادی کشمیر کے اندر خصوصاً کپواڑہ،بارہمولہ،پلوامہ،اسلام آباد کی نئی جیلوں میں نظر بندوں کو رکھنے کی کافی گنجائش ہے لیکن نظر بندوں اور اُن کے عزیز و اقارب کوتکلیف دینا حکام کا مدعا و مقصد ہے اسلئے وادی سے باہر کشمیریوں کو پابند سلاسل کیا جاتا ہے ۔کے این ایس کے مطابق ظفر اکبر بٹ کا کہنا تھا کہ وادی سے باہرکورٹ بھلوال ،امپھلا،کٹھوہ ،ادھمپور،ہیرانگر اور راجوری پونچھ کی جیلوں میں نظر بندوں کو ایک دوسرے سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جاتی ہے۔انہوں نے بتاےا کہ علاج و معالجہ کیلئے جیل سے باہر بھی کوئی خاطر خواہ انتظام نہیں ہے جس کی وجہ سے نظر بندوں کو کافی جسمانی تکلیفوں سے دو چار ہونا پڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سیاسی قیدیوں کےلئے طے شدہ بین الاقوامی اصولوں کی دھجیاں اُڑائی جاتی ہے ۔ انہوںنے بتایا کہ پی ایس اے کا عرصہ گزرنے اورعدالت کی طرف سے رہائی کا حکم صادر ہونے کے باوجود بھی کشمیری نظر بندوں کوJIC جموں اور JIC سرینگر میں غیر قانونی طور پرپابند سلاسل رکھا جاتا ہے۔