تحریک آزادی ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل

ہماری تحریک آزادی ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اور حریت قائدین اور مزاحمتی تحریک سے وابستہ جملہ رہنماﺅں کی تحریکی اور سیاسی سرگرمیوں پر پابندی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہاں ایک قسم کی نظر یاتی جنگ چھڑی ہوئی ہے جہاں ایک طرف کشمیریوں کے خون اور جذبات کے ترجمانی ہور ہی ہے اور دوسری طرف جموں کشمیر پر بھارت کے قبضے کو دوام بخشنے کےلئے ہر قسم کے جابرانہ حربوں اور سازشوں کا سہارا لیا جا رہا ہے ۔ آج خانیار میں تحریک آزادی کے سرکردہ رہنما شہید بشیر احمد صوفی المعروف پروفیسر سلیم کی شہادت کے سلسلے میں ایک تعزیتی اجتماع سے کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیرمین جناب میرواعظ مولوی محمد عمر فاروق نے خطاب کے دوران ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں وہی تحریکیں کامیابی سے ہمکنار ہوتی ہیں جن کے ساتھ لوگ فکری اور ذہنی طور جڑے ہوتے ہیں۔ اور کشمیری عوام نے اپنی مبنی برحق جدوجہد شعور کی بےداری کے ساتھ شروع کی ہے اور اس تحریک کو یہاں کے ہزاروں شہدوں کے خون اور ہر مکتبہ فکر سے وابستہ لوگوں کی قربانیوں نے اتنا طاقتور بنا دیا ہے کہ اس کو فوجی طاقت کے بل پر دبایا نہیں جا سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری مبنی برحق آواز کو دبانے کےلئے ہر قسم کے حربوں کا سہارا لیا جا رہا ہے ۔ یہاں ہر طرف خون ریزی سرکاری دہشت گردی، اور نام نہاد انتخابات کے نام پر نہ صرف ہماری سیاسی آزادی بلکہ مذہبی حقوق کو بھی سلب کیا جا رہا ہے ۔ گزشتہ کچھ عرصہ سے پوری وادی خصوصاً پائین شہر کو عملاً ایک فوجی چھاونی میں تبدیل کر کے ہمیں مذہبی فرائض کی ادائیگی سے بھی روکا جا رہا ہے ۔جناب میرواعظ نے شہید موصوف کو خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا کہ شہید بشیر احمد صوفی کی طرح یہاں کی نوجوان نسل کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت شہادت کے منصب پر فائض کر کے نسل کشی کا منصوبہ بند سلسلہ جاری ہے اور خود کو کشمیری عوام کا بہی خواہ جتلانے والے لوگوں کے ہاتھ نہ صرف کشمیریوں کے خون سے سے رنگے ہوئے ہیں بلکہ وہ بھارت کے خاکوں میں رنگ بھرنے کا کوئی بھی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرتے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر کشمیری حریت پسند عوام خصوصاً نوجوانو ں کا جذبہ حریت سلامت رہتا ہے تو وہ دن دور نہیں کہ جب کامیابی ہمارے قدم چومے گی۔جناب میرواعظ نے خبردار کیا کہ تاریخ کے اس نازک مرحلے پہ باہمی اتحاد و اتفاق تحریک کی بقا کی واحد ضمانت ہے اور ہم کو چاہے کہ اس مرحلے پر مسلکی منافرت اور غیر ضروروی بیان بازی سے اجتناب کرتے ہوئے اپنی تمام تر توجہ حصول مقصد کی جانب مرکوز کریں۔ جناب میرواعظ نے شہید کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار اور شہید کے بلند درجات کے لئے دعا کی ۔ا س موقعہ پر حریت قائدین جناب مختار احمد وازا ہ اور محترمہ یاسمین راجہ بھی موجود بھیں ۔
دریں اثنا حریت ترجمان نے محبوس حریت رہنما جناب ڈاکٹر غلام محمد حبی کی بگڑتی صحت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موصوف جو گزشتہ کئی ہفتوں سے تھانہ چرار شریف میں مقید ہیں کی صحت بہت حد تک بگڑ چکی ہے اور جیل حکام محبوس حریت رہنما کو نہ صرف طبی سہولیات سے محروم رکھ رہے ہیں بلکہ ان کو اب تک عدالت میں بھی پیش نہیں کیا گیا ہے ۔ ترجمان نے مزاحمتی تحریک کے سرکردہ قائدین جناب آغا سید حسن ، جناب نعیم احمد خان، جناب ظفر اکبر بٹ ،جناب سید سلیم گیلانی، جناب جاوید احمد میر، جناب سید علی گیلانی ، جناب محمد یاسین ملک کی مسلسل نظر بندی اور جناب شبیر احمد شاہ ، جناب شبیر احمد ڈار کی مسلسل حراست کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات سے کشمیریوں کی مبنی برحق جدوجہد سے وابستہ قائدین کو اپنے موقف سے دستبردار نہیں کیا جا سکتا۔ ترجمان کے مطابق اس دوران شمالی کشمیر میں حریت قائدین چودھری شاہین اقبال ،بشیر احمد ، سبزار احمد، معراج الدین، جاوید احمد، معراج الدین گوجری ، اعجاز صوفی اور غلام حسن شاہ نے آج کئی علاقوں میں جا کر لوگوں کو نام نہاد انتخابی عمل سے دور رہنے کی تقلین کی۔ترجمان کے مطابق آ ج پولیس نے علالت کے بنا پر محبوس حریت قائدین جناب محمد یوسف نقاش اور الطاف احمد ڈار کو جیل سے رہا کر د